سفارشی اور نااہل ڈائریکٹر جنرل ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن طاہر عباس اور ڈائریکٹر کورنٹائن عبد الباسط کے عزائم کھل کر سامنے آگئے،چھالیہ کے بعد بیرون ملک سے آنے والی لکڑی کے سینکڑوں کنٹینروں کو کلیئر کرنے سے بھی انکار،لکڑی کے تاجروں کو اربوں روپے سے نقصان کا خدشہ،باخبر ذرائع سے تجارت نیوز کو ملنے والی مصدقہ اطلاعات کے مطابق ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن کے سفارشی اور نااہل ڈائریکٹر جنرل طاہر عباس اور ڈائریکٹر کورنٹائن عبدالباسط سمیت دیگر افسران پر مشتمل مخصوص گروہ کی جانب سے ملکی معیشت و قومی خزانے کو سینکڑوں ارب روپے کا نقصان پہنچانے کے ساتھ ملک کی تعمیرو ترقی میں اہم ترین کردار ادا کرنے والے امپورٹرز، سرمایہ کاروں،صنعتکاروں اور تاجروں کو پریشان کرکے کاروبار بند کرنے پر مجبور کرنے کا منصوبہ مکمل طور پر نے نقاب ہو چکا ہے،ذرائع کا اس ضمن میں مزید کہنا تھا کہ طاہر عباس نے بطور ڈی جی اپنی تعیناتی کے فوری بعد ہی ملکی معیشت کو تباہ و برباد کرنے کے مذموم منصوبے پر عمل شروع کر دیا تھا،جس کے ابتدائی مرحلے میں اندونیشیا اور تھائی لینڈ سے قانونی طور پر منگوئی جانے والی چھالیہ میں افلاٹاکسن نامی زہریلے مادے کی مقدار کو مقرر کردہ معیار سے زائد ظاہر کر کے کلیئر کرنے سے انکار کر دیاتو دوسری جانب اپنی من پسند و مخصوص پارٹیوں کے سینکڑوں کنٹینروں کو قوانین کے عین برخلاف نہایت مختصر عرصے میں کلیئر کر دیا،جس کے باعث طاہر عباس کو کروڑوں روپے بطور رشوت دینے سے انکار کرنے والے امپورٹرز کو مجموعی طور پر اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا،جس کے بعد ڈی جی طاہر عباس نے امریکا سمیت دیگر ممالک سے آنے والے لکڑی کے سینکڑوں کنٹینروں میں کیڑے کی موجودگی کا دعوی کرتے ہوئے انھیں بھی کلیئرنس دینے سے انکار کر دیا ہے،جس کے باعث لکڑی کے درآمد کنندگان میں بھی شدید بے چینی اور اشتعال پھیل رہا ہے،باخبر ذرائع کا اس ضمن میں مزید کہنا تھا کہ مبینہ طور پر روکے جانے والے سینکڑوں کنٹینروں میں پائن و دیگر اقسام کی لکڑی موجود ہے،جس میں کیڑے کی موجودگی ظاہر ہونے کے بعد فیومگیشن کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے تاہم ڈی جی ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن اور اس کا دست راست ڈائریکٹر کورنٹائن ڈاکٹر عبد الباسط ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نہ صرف ملکی معیشت میں اہم ترین کردار ادا کرنے والے کاروباری طبقے کو حراساں کر کے کاروبار بند کرنے پر مجبور کر رہے ہیں تو دوسری جانب قومی خزانے کو بھی ٹیکس کی مد میں سینکڑوں ارب روپے کا خسارہ ہو رہا ہے،باخبر ذرائع نے یہ انکشاف بھی کیا کہ پیر کے روز لکڑی کے15سے زائد قانونی درآمد کنندگان نے ڈائریکٹر جنرل ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن طاہر عباس سے طویل ملاقات بھی کی تاہم معاملات اب بھی تعطل کا شکار ہیں،اس سنگین ترین صورتحال کے پیش نظر ملک بھر سے تعلق رکھنے والے امپورٹرز،سرمایہ کاروں،صنعتکاروں اور تاجروں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر،چیف جسٹس آف پاکستان یحیی آفریدی اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف







